جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی

نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ

کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ

ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہٰی

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

Muhammad Sufian Amjad

Created dozens of Graphic designs within the last 8 years including logos, Banners, and editing of pictures. Clients include in 3D Design. facebook instagram youtube twitter pinterest

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی